ترکی کیلیے پرواز بھی خوب رہی۔ ہمارے دونوں جانب کاکیشیائ خواتین بیٹھی تھیں۔ ان میں سے ایک سے کچھ بات چیت چلتی رہی۔ محترمہ ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کی منزل افریقہ میں دارالسلام تھی۔ سردست مجھے یاد نھیں یہ کس ملک کا شھر ہے۔ بہرحال ہمت کی بات ہے کہ وہاں جایا جاۓ جہاں سے سب بھاگتے ہوں۔ دوسری طرف بیٹھی خاتون نےدو مرتبہ آداب کا جواب نہ دیا تو شدید غصے میں ہم نے بھی انھیں نظر انداز کر دیا۔ بعد میں علم ہوا کہ انگریزی وہ اتنی ہی جانتی ہیں جتنی ہم پشتو سو قصوروار نہیں۔
پرواز کام کے لحاظ سے فائدہ مند رہی۔ ہم نے ایک عدد مقالہ لکھ لیا ہے جو ایک ویب سائٹ پر چھپ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک تحقیقی مقالے کا خاکہ بھی بنا لیا ہے۔ باقی ایک دو کام صرف مصروف رہنے کے واسطے کیے ہیں مثلاً نیو یارک کے حالیہ دورے کی تصاویر مرتب کرنا وغیرہ وغیرہ۔
کھانے کے معاملے میں مغرب کے لوگ حصے بنا کر سوچنے کے عادی ہیں۔ مکمل کھانے میں اکثر سبزی اور پھل ،روٹی یا چاول کے ساتھ ضرور دیا جائیگا اور اس کے مقابلے میں ہم ایک ہی شے سے ایک کھانے کی پوری غذائیت لینا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ نتیجتاً کھانا ظاہر ہے سبزی اور اس قماش کی صحتمند اشیا سے عا ری ہوتا ہے بقول ایک عزیز کے، "بھئ بڑے ہی بیوقوف ہو جو اپنے پیسے لگا کر گھاس پھونس کھاتے ہو۔"
خیر پرواز کے دوران کھانا شاندار تھا۔ نہ کوئ چیز اتنی کم کہ نظریں دوسرے کی تھالی کا طواف کریں نہ اتنی زیادہ کہ توانائ کا بحران قبل از وقت ختم ہو جاۓ۔ ( تصویر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے)

No comments:
Post a Comment