Monday, March 5, 2018

پرواز بجا نب ترکی۔۔(یہ پرواز ۲۳ جون ۲۰۱۶ کی ہے۔ذیل کی تحریر کو حالیہ پرواز کے مشاہدات نہ سمجھا جاےؑ)۔۔


ترکی کیلیے پرواز بھی خوب رہی۔ ہمارے دونوں جانب کاکیشیائ خواتین بیٹھی تھیں۔ ان میں سے ایک سے کچھ بات چیت چلتی رہی۔ محترمہ ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کی منزل افریقہ میں دارالسلام تھی۔ سردست مجھے یاد نھیں یہ کس ملک کا شھر ہے۔ بہرحال ہمت کی بات ہے کہ وہاں جایا جاۓ جہاں سے سب بھاگتے ہوں۔ دوسری طرف بیٹھی خاتون نےدو مرتبہ آداب کا جواب نہ دیا تو شدید غصے میں ہم نے بھی انھیں نظر انداز کر دیا۔ بعد میں علم ہوا کہ انگریزی وہ اتنی ہی جانتی ہیں جتنی ہم پشتو سو قصوروار نہیں۔ 
پرواز کام کے لحاظ سے فائدہ مند رہی۔ ہم نے ایک عدد مقالہ لکھ لیا ہے جو ایک ویب سائٹ پر چھپ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک تحقیقی مقالے کا خاکہ بھی بنا لیا ہے۔ باقی ایک دو کام صرف مصروف رہنے کے واسطے کیے ہیں مثلاً نیو یارک کے حالیہ دورے کی تصاویر مرتب کرنا وغیرہ وغیرہ۔ 
کھانے کے معاملے میں مغرب کے لوگ حصے بنا کر سوچنے کے عادی ہیں۔ مکمل کھانے میں اکثر سبزی اور پھل ،روٹی یا چاول کے ساتھ ضرور دیا جائیگا اور اس کے مقابلے میں ہم ایک ہی شے سے ایک کھانے کی پوری غذائیت لینا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ نتیجتاً کھانا ظاہر ہے سبزی اور اس قماش کی صحتمند اشیا سے عا ری ہوتا ہے بقول ایک عزیز کے، "بھئ بڑے ہی بیوقوف ہو جو اپنے پیسے لگا کر گھاس پھونس کھاتے ہو۔" 
خیر پرواز کے دوران کھانا شاندار تھا۔ نہ کوئ چیز اتنی کم کہ نظریں دوسرے کی تھالی کا طواف کریں نہ اتنی زیادہ کہ توانائ کا بحران قبل از وقت ختم ہو جاۓ۔ ( تصویر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے)



قصہ سفر شکاگو کا

نوٹ: یہ چند ماہ پہلے کی کارگزاری ہے۔ سستی کے سبب بروقت قارئین کو پہنچانے سے قاصر رہے۔
موسم بہا ر کی تعطیلات ہوئیں تو اس بار شکاگو کا ہی قصد کر لیا گیا۔ بنیادی طور پر تین مقاصد پیش نظر تھے: گھر کے لیے کچھ سودا سلف خرید لیا جائے، اپنی حس زائقہ کو ڈیوان سٹریٹ کے کھانوں سے ترو تازہ کیا جائے، اور عزیزی اکمل کو “شہر “ دکھایا جائے۔ تو صاحب (صنفی لحاظ سے کسی تعصب کی کوئی نیت نہیں کی گئ) منہ اندھیرے راقم، اویس میاں اور عزیزی اکمل لاری پر بیٹھ گئے اور شکاگو کیلیے روانہ ہو گءے۔
ڈھائ گھنٹے کے اس سفر میں سوتے ہی گئے ھیں ۔ پہنچتے ساتھ ہی ہم نے بھوک کی شدت کا اظہار کر دیا اور حلوہ پوری کے علاوہ کسی بھی کھانے سے سمجھوتا نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ خیر اعترا ض کون کرتا ہم سب کو مدت ہو چلی تھی دیسی کھانا کھائے ہوئے۔ بہرحال اب جوڈھونڈنے کی کوشش کی تو علم ہوا کہ بھئی جتنے بھی ریستوران ہم جانتے تھے سبھی بند تھے ۔اقبال کی بے بسی پر افسوس کرتے ہوئے کہ کس قوم کو صبح خیزی کا کہتے رہے، ڈنکن ڈونٹس میں ہی جا گھسے۔ ایک سینڈ وچ اور کافی زہر مار کی اور چل پڑے شہر میں آوارہ گردی کرنے۔ آج معمول کے بر خلاف موسم صاف تھا، سردی کا زور ٹوٹ رہا تھا اور عوام جوق در جوق پارکس اور تفریحی مقامات میں موجود تھے۔
ہم سب سے پہلے ملینیئم پارک گئے یہاں مشی گن جھیل کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے با غیچے بنائے گئے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی خوب صورت فن پا رہ بنایا گیا ہے۔ ان سب میں زیادہ پسندیدہ “بین” ہے۔ یہ دال کے ایک دانے کی ہیئیت کا اسٹیل کا بنا ایک نمونہ ہے جس میں ایک بڑے خمیدہ آئینے کی مانند آس پاس کا منظر منعکس ہوتا ہے۔ عزیزی اکمل تو یہاں تصویریں ہی بنواتے رہے جب کہ اویس دور بیٹھے گہرے خیالوں میں مگن، کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے اس نوجوان کا سا منظر دینے لگے جو زندگی کا مطلب جان چکا ہو اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہونے والوں کو بے چارگی سے دیکھ رہا ہو۔ آدھ گھنٹے تک جب ایک ہی جگہ پر اکمل کا فوٹو سیشن ختم نہ ہوا تو ہم خود ہی آگے چل پڑے۔ پارک کے ایک کونے سے آپ شہر کو دیکھیں تو سڑک کے دونوں اطراف بلند و بالا عمارتیں ایک چھت کے بغیر مہراب کا گمان دیتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر اکمل رہ نہیں سکے اور گہری سانس بھر کر کہنےلگے، "بھائی ڈویلپمنٹ تو ہے پھر”۔
اس کے بعد ہم نے مشی گن جھیل کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنا شروع کردی۔ ہما را خیال تھا کہ قدرتی مناظر سے چپ چاپ بیٹھ کر، گہرے گہرے سانس لے کر، کام کی سوچوں کو چوڑھ کر لطف اندوز ہوا جائے۔ سو ہم بھی ایک کنارے پر جا بیٹھے اور جھیل کے بے پایاں پانیوں میں نیلگوں آسمان کے عکس میں کھو گئے۔
کھلے پانی کو دیکھے ہوئے مدت ہی ہو گئی تھی۔ یہ جھیل عموما ٹھنڈی شمار ہوتی ہے مگر پھر بھی کیا بوڑھے کیا بچے کیا جوان، ہر عمر کے لوگ یہاں موجود تھے۔ کوئی اس کے ساحل کےساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا، کوئی چہل قدمی کر رہا تھا، اور کوئی کسی جگہ بیٹھ کر کتاب بینی کر رہا تھا۔
جب جھیل کے ساتھ بیٹھے بیٹھے وقت کافی ہو گیا، اور عزیزی اکمل کیلیے تصویر کشی کیلیے کچھ باقی نہ رہا تو ڈیوان سٹریٹ جا پہنچے۔ شکا گو کا یہ علاقہ بجا طور پر لٹل پاکستان کہلاتا ہے۔ تقریباً تمام بازار ہی پاکستانیوں کا ہے اور اتنی بے تکلفی کہ جا بجا قمیص شلوار پہنے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہاں اکمل بھا ءی کا برجستہ جملہ،" اے تا لوکی اپنڑا ای محول بنڑاءی بیٹھے نیں”، بالکل درست بیٹھتا ہے۔ یہاں سب سے پہلے ایک معروف ریستوران جا کر کڑاہی گوشت کے ساتھ انصا ف کیا اور پھر مٹر گشت کیلیے نکل کھڑے ہوءے۔ اوک ایوینیو کے چوک پر پہنچے تو باءیں ہاتھ ایک دکان پر جلی حروف میں “کتاب گھر” لکھا نظر آیا۔ حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساسات میں اندر جا گھسے۔ اندر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بھرپور اردو کتب خانہ ہے۔ کتابیں سلیقے سے مختلف موضوعات کے خانوں میں رکھی تھیں۔ ایک طرف نءے پرانے اردو ڈراموں کے ریکارڈ رکھے تھے۔ اتنے میں دکان کی مالکن بھی ہمارے پاس آگیئں ۔ محترمہ نسرین جلیل ہمارے اندازے میں ستر کے پیٹے میں ہوں گی مگر زندگی سے بھر پور ھیں۔ ان سے جو گپ لگنا شروع ہوئ تو اویس میاں تو کونے میں جا اپنے موبائل میں مگن ہوگءے۔ ان سے باتیں کر کے ہمیں اپنی مرحومہ نانی اماں بہت یاد آئیں۔ راہ چلتے کسی بزرگ سے بات کرنے کا ایک مزہ یہ ہے کہ موضوع کی قید نہیں رکھی جا سکتی، بات کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے، اور چند منٹوں کی گفتگو میں کسی دور کے رشتے دار کا جاننے والا تو گنوا ہی چھوڑتے ہیں، اور یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کی دلچسپی کہیں معدوم ہو جاءے۔ انہی کے بقول پتا چلا کہ ایک دو مشہور ٹی وی چینل ان کی دکان پر پروگرام کر چکے ہیں۔ کافی دیر تک گپ شپ کے بعد ہمیں اویس کے ہاتھوں اپنی جان کے لالے پڑنے لگے تو آنٹی سے اجازت لی۔
اس وقت سہ پہر ہو چلی تھی اور ہماری لاری کا وقت بھی قریب تھا سو جلدی سے سودا سلف پکڑا اور لاری اڈہ کیلیے سواری پکڑی۔ اس طرح تقریباً عشاء کے وقت گھر پہنچ گءے۔ ایک دن میں شکاگو کی سیر تو نہیں کی جا سکتی مگر بہر حال یہ ایک قابل ذکر اور یادگار سفر تھا۔

Friday, June 20, 2014

SSH connection to a remote computer

Hi everyone,

Most of the time, we need to connect to a remote computer for accessing some files or running some programs remotely for data collection or other purposes.
In the following description, i ll be going through a method that i found very simple and useful for one of the tasks i wanted to perform on a PC on-board a Pioneer 3-AT mobile robot. Following steps need to be followed:

1- Connect both the computers to a common network. This can be achieved using a wired or a wireless connection. I used wireless USB dongle (ZyXEL AG-225H v2 802.11a/g Wi-Fi Finder & USB Adapter
) at my client end PC and a TP-Link nano router (Remember using it in AP mode) at the host end PC.

ZeXEL Dongle
TP link nano Router













2- If you are not very comfortable with networking concepts yet, consider assigning "Static IP addresses" to the two computers, making sure they are IP addresses of the same network.

3- Confirm the connectivity using ping on both ends.
In case of failure, try turning off the firewall and rechecking the IP addresses at both ends. (In this case, you might need to verify the settings of router also)

4- Download a free software PuTTY from www.putty.org/ at the client end

5- Run the software by putting the Host IP in the specified field: (Make sure in the Connection type: SSH is checked and the Port # is 22)

6- Ideally when you press Open, you should be prompted to enter login and password in a console environment as follows:


Just plug in Login and password details of host user in this window and you will be in a DOS environment like this:

Thats it! you can run different data acquisition softwares like camera or sonar routines remotely and collect data.

7- Most of the time, however, you are not that lucky to get everything so smoothly. Following is one of the different problem cases you may face after step 5:



The solution for this is to check if the port 22 is in 'listening mode' at the host end. You can check that by typing 'netstat -a' at the command prompt. 

You need to check the middle column here. There are IP addresses with Port # after a colon to the right. These are the IP addresses with whom your host end PC is in a specific state (again check the last column of the output).
As in this case, there is no therefore, you need to make it listen to port 22 first through the client end IP. One easy way is to get an SSH server software like FreeSSH. In this software you can easily configure an SSH server in the host pc by following the guidelines given at the link: http://www.freesshd.com/?ctt=overview

Good Luck!


Saturday, April 5, 2014

Display Problems faced in installing Linux Distributions

Assalam o alaekum everyone!
(May Peace and blessings of Allah be upon you all),

Following are the solutions that helped me recover from the display problem

For fedora display problem:

In bootloader, when you are  on the option of Fedora, press 'e'.
This will open up several boot commands (like in the following figure)

Inline image 2
 Find the instruction starting with 'linux', go to the end of the instruction and write after a space 'vga=0x317' (This number varies for different resolutions. I havent come across any formula so far). After this, press F10 to run Fedora. 

For Debian display problem:
(This solution is for those users who are running a LILO bootloader)
When powering up the system, start pressing some key e.g. 'up arrow' key. You will be directed to a boot menu (Menu will be of Red Color if you are using LILO bootloader) like this:

Inline image 1

In the commandline, write 'linux vga=0x317' and then press enter to run Debian operating system.

A permanent solution to this i found out later on. Once you have booted the Operating System, you can go to the directory /etc/ and open the lilo.conf. In the config file, find the line starting with "vga". There will be a code block containing some vga commands. In those commands, if there is a direct assignment like vga=some number, either overwrite or comment out that, and write this line
"vga=0x317"
Save and exit the configuration file, and reboot the system.

I hope this helps.


Thursday, October 6, 2011

Maximum Power Transfer Theorem (for newbies to Electrical)







assalamualaekum!

the other day some one asked about the proof of the maximum power transfer theorem statement:
"it occurs for the Load Resistance equal to the Thevenin Resistance".
I pondered over it.it was quite simple actually.
but i also came up with another case. what would be the relation like for the Thevenin Resistance at hand and Load resistance fixed.
these plots have been made in the matlab.
the First plot shows the Load Power for varying the Load Resistance.
the second plot is for the case when the Thevenin Resistance is varied.




I plan to upload better things insha'allah..