نوٹ: یہ چند ماہ پہلے کی کارگزاری ہے۔ سستی کے سبب بروقت قارئین کو پہنچانے سے قاصر رہے۔
موسم بہا ر کی تعطیلات ہوئیں تو اس بار شکاگو کا ہی قصد کر لیا گیا۔ بنیادی طور پر تین مقاصد پیش نظر تھے: گھر کے لیے کچھ سودا سلف خرید لیا جائے، اپنی حس زائقہ کو ڈیوان سٹریٹ کے کھانوں سے ترو تازہ کیا جائے، اور عزیزی اکمل کو “شہر “ دکھایا جائے۔ تو صاحب (صنفی لحاظ سے کسی تعصب کی کوئی نیت نہیں کی گئ) منہ اندھیرے راقم، اویس میاں اور عزیزی اکمل لاری پر بیٹھ گئے اور شکاگو کیلیے روانہ ہو گءے۔
ڈھائ گھنٹے کے اس سفر میں سوتے ہی گئے ھیں ۔ پہنچتے ساتھ ہی ہم نے بھوک کی شدت کا اظہار کر دیا اور حلوہ پوری کے علاوہ کسی بھی کھانے سے سمجھوتا نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ خیر اعترا ض کون کرتا ہم سب کو مدت ہو چلی تھی دیسی کھانا کھائے ہوئے۔ بہرحال اب جوڈھونڈنے کی کوشش کی تو علم ہوا کہ بھئی جتنے بھی ریستوران ہم جانتے تھے سبھی بند تھے ۔اقبال کی بے بسی پر افسوس کرتے ہوئے کہ کس قوم کو صبح خیزی کا کہتے رہے، ڈنکن ڈونٹس میں ہی جا گھسے۔ ایک سینڈ وچ اور کافی زہر مار کی اور چل پڑے شہر میں آوارہ گردی کرنے۔ آج معمول کے بر خلاف موسم صاف تھا، سردی کا زور ٹوٹ رہا تھا اور عوام جوق در جوق پارکس اور تفریحی مقامات میں موجود تھے۔
ہم سب سے پہلے ملینیئم پارک گئے یہاں مشی گن جھیل کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے با غیچے بنائے گئے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی خوب صورت فن پا رہ بنایا گیا ہے۔ ان سب میں زیادہ پسندیدہ “بین” ہے۔ یہ دال کے ایک دانے کی ہیئیت کا اسٹیل کا بنا ایک نمونہ ہے جس میں ایک بڑے خمیدہ آئینے کی مانند آس پاس کا منظر منعکس ہوتا ہے۔ عزیزی اکمل تو یہاں تصویریں ہی بنواتے رہے جب کہ اویس دور بیٹھے گہرے خیالوں میں مگن، کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے اس نوجوان کا سا منظر دینے لگے جو زندگی کا مطلب جان چکا ہو اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہونے والوں کو بے چارگی سے دیکھ رہا ہو۔ آدھ گھنٹے تک جب ایک ہی جگہ پر اکمل کا فوٹو سیشن ختم نہ ہوا تو ہم خود ہی آگے چل پڑے۔ پارک کے ایک کونے سے آپ شہر کو دیکھیں تو سڑک کے دونوں اطراف بلند و بالا عمارتیں ایک چھت کے بغیر مہراب کا گمان دیتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر اکمل رہ نہیں سکے اور گہری سانس بھر کر کہنےلگے، "بھائی ڈویلپمنٹ تو ہے پھر”۔
اس کے بعد ہم نے مشی گن جھیل کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنا شروع کردی۔ ہما را خیال تھا کہ قدرتی مناظر سے چپ چاپ بیٹھ کر، گہرے گہرے سانس لے کر، کام کی سوچوں کو چوڑھ کر لطف اندوز ہوا جائے۔ سو ہم بھی ایک کنارے پر جا بیٹھے اور جھیل کے بے پایاں پانیوں میں نیلگوں آسمان کے عکس میں کھو گئے۔
کھلے پانی کو دیکھے ہوئے مدت ہی ہو گئی تھی۔ یہ جھیل عموما ٹھنڈی شمار ہوتی ہے مگر پھر بھی کیا بوڑھے کیا بچے کیا جوان، ہر عمر کے لوگ یہاں موجود تھے۔ کوئی اس کے ساحل کےساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا، کوئی چہل قدمی کر رہا تھا، اور کوئی کسی جگہ بیٹھ کر کتاب بینی کر رہا تھا۔
جب جھیل کے ساتھ بیٹھے بیٹھے وقت کافی ہو گیا، اور عزیزی اکمل کیلیے تصویر کشی کیلیے کچھ باقی نہ رہا تو ڈیوان سٹریٹ جا پہنچے۔ شکا گو کا یہ علاقہ بجا طور پر لٹل پاکستان کہلاتا ہے۔ تقریباً تمام بازار ہی پاکستانیوں کا ہے اور اتنی بے تکلفی کہ جا بجا قمیص شلوار پہنے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہاں اکمل بھا ءی کا برجستہ جملہ،" اے تا لوکی اپنڑا ای محول بنڑاءی بیٹھے نیں”، بالکل درست بیٹھتا ہے۔ یہاں سب سے پہلے ایک معروف ریستوران جا کر کڑاہی گوشت کے ساتھ انصا ف کیا اور پھر مٹر گشت کیلیے نکل کھڑے ہوءے۔ اوک ایوینیو کے چوک پر پہنچے تو باءیں ہاتھ ایک دکان پر جلی حروف میں “کتاب گھر” لکھا نظر آیا۔ حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساسات میں اندر جا گھسے۔ اندر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بھرپور اردو کتب خانہ ہے۔ کتابیں سلیقے سے مختلف موضوعات کے خانوں میں رکھی تھیں۔ ایک طرف نءے پرانے اردو ڈراموں کے ریکارڈ رکھے تھے۔ اتنے میں دکان کی مالکن بھی ہمارے پاس آگیئں ۔ محترمہ نسرین جلیل ہمارے اندازے میں ستر کے پیٹے میں ہوں گی مگر زندگی سے بھر پور ھیں۔ ان سے جو گپ لگنا شروع ہوئ تو اویس میاں تو کونے میں جا اپنے موبائل میں مگن ہوگءے۔ ان سے باتیں کر کے ہمیں اپنی مرحومہ نانی اماں بہت یاد آئیں۔ راہ چلتے کسی بزرگ سے بات کرنے کا ایک مزہ یہ ہے کہ موضوع کی قید نہیں رکھی جا سکتی، بات کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے، اور چند منٹوں کی گفتگو میں کسی دور کے رشتے دار کا جاننے والا تو گنوا ہی چھوڑتے ہیں، اور یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کی دلچسپی کہیں معدوم ہو جاءے۔ انہی کے بقول پتا چلا کہ ایک دو مشہور ٹی وی چینل ان کی دکان پر پروگرام کر چکے ہیں۔ کافی دیر تک گپ شپ کے بعد ہمیں اویس کے ہاتھوں اپنی جان کے لالے پڑنے لگے تو آنٹی سے اجازت لی۔
اس وقت سہ پہر ہو چلی تھی اور ہماری لاری کا وقت بھی قریب تھا سو جلدی سے سودا سلف پکڑا اور لاری اڈہ کیلیے سواری پکڑی۔ اس طرح تقریباً عشاء کے وقت گھر پہنچ گءے۔ ایک دن میں شکاگو کی سیر تو نہیں کی جا سکتی مگر بہر حال یہ ایک قابل ذکر اور یادگار سفر تھا۔